ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / کانگریس کا نئے فوجداری قوانین کو منسوخ کرنے کا مطالبہ

کانگریس کا نئے فوجداری قوانین کو منسوخ کرنے کا مطالبہ

Sun, 23 Jun 2024 12:29:56    S.O. News Service

نئی دہلی، 23/ جون (ایس او نیوز /ایجنسی) کانگریس نے حکومت سے پرزورمطالبہ کیاکہ اپوزیشن کے اراکین کی پارلیمنٹ سے بڑے پیمانے پر معطلی کے درمیان مناسب بحث ومباحثہ کے بغیرمنظور کرائے گئے تین نئےفوجداری قوانین ’بھارتیہ نیائے سنہتا،بھارتیہ ناگرک سرکشا سنہتا اورشاکسیہ ‘ایکٹ ۲۰۲۳ءکے نفاذ کو ملتوی کیا جائے۔ پارٹی نے کہا کہ ان تینوں قوانین کو من مانے طریقہ سے پارلیمنٹ  میں  منظور کیا گیاجس کے دور رس اثرات مرتب ہوں گے۔ایسے میں یکم جولائی ۲۰۲۴ء سے اس کے نفاذ کوملتوی کرکےوزرات داخلہ کی از سرنو تشکیل شدہ کمیٹی میں ان قوانین کو تفصیلی  غور وخوض کیلئے بھیجا جائے۔قابل ذکر ہے کہ مرکز کی مودی حکومت نے انڈین پینل کوڈ،کوڈ آف کرمنل پروسیجر اور انڈین ایوڈنس ایکٹ کی جگہ پرمذکورہ تینوں نئے فوجداری قوانین پارلیمنٹ کے سرمائی اجلاس میں اپوزیشن کے سخت احتجاج کے باجود منظور کرالئے تھے۔ایسا کرنے کیلئےاپوزیشن کےاراکین کو دونوں ایوان سے بڑے پیمانے پر معطل کردیا گیا تھا۔ 

کانگریس لیڈرجے رام رمیش نےنئے فوجداری قوانین  کے نفاذ کو ملتوی کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے اپنی پوسٹ میں کہا کہ گرچہ صدر جمہوریہ نے بھارتیہ نیائے سنہتا،بھارتیہ ناگرک سرکشا سنہتا اورشاکسیہ ایکٹ ۲۰۲۳ء کو۲۵؍ دسمبر ۲۰۲۳ء کو منظوری دے دی لیکن  دور رس نتائج کے حامل ان قوانین کو پارلیمنٹ میں بغیر مناسب بحث و مباحثے کے من مانے طریقے سے منظور کیا گیا ۔ جب ان قوانین کو منظوری دی جارہی تھی ،اس وقت اپوزیشن کے ۱۴۶؍ اراکین پارلیمنٹ کو لوک سبھا اور راجیہ سبھا سے معطل کر دیا گیا تھا۔ اس سے پہلے ان قوانین کو ملک بھر کےمتعلقہ افراد کے ساتھ تفصیلی بات چیت کے بغیر اورکانگریس سمیت مختلف سیاسی جماعتوں کے متعدد ممبران پارلیمنٹ کے تحریری اور بڑے پیمانے پر اختلافی نوٹ کو نظر اندازکرکے زبردستی اسٹینڈنگ کمیٹی کے ذریعے پاس کر دیا گیا تھا۔ انہوںنے مزید کہا کہ تینوں نئے قوانین یکم جولائی ۲۰۲۴ء سے نافذ العمل ہوں گےلیکن کانگریس کی واضح رائے ہے کہ ان تینوں قوانین کا نفاذ ملتوی کیا جانا چاہئے۔ یہ اس لیے کہ ان تینوں قوانین کا  دوبارہ تشکیل شدہ  اسٹینڈنگ کمیٹی برائے امور داخلہ کے ذریعے جائزہ لیا جا سکے۔ کمیٹی کو ان تمام قانونی ماہرین اور تنظیموں کے ساتھ وسیع اور بامعنی بات چیت کرنی چاہئے جن کےتینوں قوانین کے بارے میں شدید تحفظات ہیں۔ اس کے بعد۱۸؍ویں لوک سبھا اور راجیہ سبھا میں ممبران پارلیمنٹ کی تشویش پر بھی غور کیا جانا چاہئے۔

 اس سے قبل مرکزی حکومت میں اعلیٰ عہدوں پرتعینات رہنے والے ۱۰۰؍ سے زائدسابق نوکر شاہوں کے ایک گروپ نے بھی گزشتہ روزکھلا خط لکھ کر اس تعلق سے ا پنی شدیدتشویش کا اظہار کیا۔نوکر شاہوں  نے مطالبہ کیا کہ  اس قانون کے نفاذ کو ملتوی کیا جائے۔خط میںمرکزی حکومت پرزور دیاگیا کہ وہ تین نئے فوجداری قوانین کے نفاذ کو موخر کرے اور اس بات کو یقینی بنائے کہ آل پارٹی میٹنگ میں ان کا جائزہ لیا جائے۔نوکرشاہوںنے قوانین کے بارے میںاپنے خدشات کا اظہا رکرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے حکومت کو ایسے صوابدیدی اختیارات حاصل ہوجائیں گے کہ کسی کوبھی مجرم قرار دے کر اس کو گرفتار یا حراست میں  لے لیا جائے گا اور اس پر مقدمہ چلا یا جا سکے گا ۔یہی نہیںاس قانون میں حکومت کو جائزاور غیر متشدد اختلاف رائے کووسیع پیمانے پرمجرمانہ بناکر جمہوریت کے عمل کو مفلوج کرنے کا اختیار دیا گیا ہے۔خط میں یہ بھی کہا گیاہے کہ ان قوانین کے بارے میں کئی اہم سوالات ہیں جن کا جواب دیا جانا باقی ہے۔سپریم کورٹ کی معروف وکیل اندرا جے سنگھ نے بھی ان نئےفوجداری قوانین کو مبہم قرادیتے ہوئے کہا کہ فوجداری قوانین میںغیر یقینی کیفیت نہیں ہوسکتی کیونکہ یہ کسی کی زندگی اور آزادی کا معاملہ ہے۔دوروز قبل انہوںنے کرن تھاپر کو دئے گئے انٹرویو میں کہا تھا کہ نئے فوجداری قوانین کی دفعات کے خلاف نہ صرف ملک کی سپریم کورٹ بلکہ ہائی کورٹس میں بھی متعدد درخواستیں  دائر ہوں گی جن میں ان دفعات کو چیلنج کیا جائےگا۔ 


Share: